Wednesday, 14 January 2015

داعش کی قید سے بھاگنے والی مظلوم لڑکی کی درد بھری داستان

دمشق ( مانیٹرنگ ڈیسک ) عسکریت پسند تنظیم داعش کے لیے جہاں دیگر کئی سنگین الزامات ہیں وہیں خواتین کے خلاف انتہائی خوفناک سلوک کا الزام بھی کثرت سے سامنے آتا رہتا ہے۔برطانوی اخبار ’ڈیلی میل ‘ کے مطابق پہلی مرتبہ داعش کی قید سے فرار ہونے والی 19 سالہ لڑکی نے انکشاف کیا ہے کہ قیدی بنائی گئی خواتین اور لڑکیوں کی نہ صرف آبرو ریزی کی جاتی ہے بلکہ ان کے جسموں سے خون نکال کر زخمی جنگجوﺅں کو بھی لگایا جاتا ہے۔
ے وفا شوہر سے بیوی کا انتقام ،کروڑوں کی چیز کو کوڑیوں میں بیچ کر چین نہ آٰیا اور ۔۔۔ 
یہ تفصیلات حمشے نامی لڑکی نے بتائیں ہیں جسے داعش نے سینکڑوں دیگر لڑکیوں کی طرح قیدی بنایا۔ان کا کہنا ہے کہ جب جنگجوﺅں نے ان کے قبیلے پر قبضہ کیا تو خواتین اور لڑکیوں کو علیحدہ کر لیا اور پھر یہ مال غنیمت کے طور پر جنگجوﺅں میں تقسیم کر دی گئیں۔
حمشے نے سماجی کارکن نارین شامو کو بتایا کہ اسے 28 دن کے لیے جنسی غلام بنا کر رکھا گیا۔ایک رات جب اس کا بچہ پیاس سے بلک رہا تھا تو وہ باہر نکلی اور محافظوں کو سوتا پا کر 4 گھنٹے پیدل چل کر فرار ہو گئی ۔حمشے سمیت کئی خواتین کی دردناک داستان بی بی سی کی ڈاکیومنٹری "Slaves of Caliphate" میں پیش کی جا رہی ہے
۔

No comments:

Post a Comment