Monday, 12 January 2015

حملے کا نشانہ بننے والے فرانسیسی جریدے نے سرورق پر پھر توہین آمیز خاکہ شائع کردی

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) گذشتہ ہفتے حملے کا نشانہ بننے والے فرانسیسی جریدے ’چارلی ہیبڈو‘ نے اپنے اگلے ہی شمارے کے سرورق پرپھر توہین آمیز خاکہ شائع کرکے میڈیا کو جاری کردیاہے جس میں مبینہ طورپر توہین آمیز تصویر کے ساتھ ’سب کو معاف کیاگیا‘ لکھاہے ۔دوبارہ توہین آمیز خاکے شائع کرنے کی خبر پر حملے پر دکھ محسوس کرنیوالے مسلمانوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ 
برطانوی میڈیا کے مطابق اخبار نے یہ فیصلہ گذشتہ ہفتے ہونیوالے حملے کے تناظر میں کیاہے اورتازہ سروق فرانسیسی میڈیا کو جاری کردیاگیاہے ۔ تقسیم کاروں کا کہنا ہے کہ اس رسالے کے اگلے شمارے کی 30 لاکھ کاپیاں شائع کریں گے جو جلدہی مارکیٹ میں دستیاب ہوگا۔
بتایاگیاہے کہ عام طور پر اس رسالے کے ایک شمارے کی زیادہ سے زیادہ 60 ہزار کاپیاں شائع ہوتی ہیں مگر رسالے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس بار پوری دنیا میں اس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔
دفترپر حملے میں بچ جانے والے افراد اس تازہ شمارے پر فرانس کے روزنامے لبریشن کے دفتر سے کام کر رہے ہیں۔ یادرہے کہ حملے میں چارلی ایبڈو کے پانچ کارٹونسٹ بشمول میگزن کے مدیر ہلاک ہوئے تھے۔
چارلی ایبڈو کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ شکست تسلیم نہیں کریں گے،’میں چارلی ہوں کا مطلب ہے ہرچیزکی آزادی کا حق‘ ہے ۔ 
فرانس میں ہونے والے حملے کے بعد تقریبا دس ہزار فوج ملک بھر میں تعینات کی گئی ہے جبکہ اتوار کو دارالحکومت پیرس میں یونیٹی ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں تقریبا 30 لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔
مسلمانوں کی بے چینی اور حملوں کے خطرے کی وجہ سے سی این این اور نیویارک ٹائمز سمیت کئی عالمی اخبارات نے چارلی ہیبڈوکا نیا سرورق چھاپنے سے انکار کردیاہے ۔

No comments:

Post a Comment