Wednesday, 14 January 2015

دنیا کا مہنگا ترین ہیرا جسے لوگ ایک عرصے تک عام پتھر سمجھتے رہے

نیویارک (نیوز ڈیسک) جیکب ڈائمنڈ دنیا کا پانچواں بڑا ہیرا ہے اور اس کا شمار دنیا کے مہنگے ترین ہیروں میں کیاجاتا ہے۔ ماضی میں اسے شاہی یا عظیم سفید ہیرے کے نام سے بھی پکاراجاتا تھا۔ یہ 39.5 ملی میٹر گہرا ہے اور اس کا وزن قریباً 36.90 گرام ہے۔ اس کی تاریخ کوہ نور ہیرے کی طرح خونی تو نہیں لیکن بے حد دلچسپ ضرور ہے۔
کہا جاتا ہے کہ کاٹے جانے سے پہلے اس کا وزن 80 گرام ہوا کرتا تھا۔ 1891ء الیگزینڈر مالکم جیکب نے اسے فروخت کیلئے پیش کیا (اس کا نام بھی اس وجہ سے جیکب ہے) حیدر آباد کے نظام محبوب علی خان کو اسے خریدنے کی پیشکش کی گئی، وہ اسے خریدنے میں بہت دلچسپی نہ رکھتے تھے لیکن 46 لاکھ روپے کی بولی لگادی۔ ان سے درخواست کی گئی کہ کچھ رقم گارنٹی کے طور پرجمع کرائیں۔ یورپی جیولرز کو یہ آفر پسند نہ آئی لیکن گارنٹی کی رقم گم ہوجانے کے باعث نظام کو ہی ہیرابیچنا پڑا۔ معاملہ عدالت پہنچا اور بالآخر نظام نے اسے 23 لاکھ روپے میں خرید لیا۔
تاہم انہیں اس ہیرے میں بہت زیادہ دلچسپی نہ تھی۔ ان کی وفات کئی سال بعد ان کے بیٹے اور آخری نظام عثمان علی خان کو یہ ہیرا ان کے جوتے میں ملا۔ عثمان علی خان نے بھی اس کی اہمیت کا ادراک نہ کیا اور کئی برس تک اسے ”پیپرویٹ“ کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ بالآخر اس کی قیمت کا معلوم ہوا تو نظام کے خزانے میں جمع کردیا گیا۔ پھر بھارتی حکومت نے اس پر ملکیت کا دعویٰ کردیا اور طویل عرصے تک مقدمہ بازی کے بعد 1995ءمیں اسے نظام ٹرسٹ کے بھارتی حکومت نے نظام کے دیگر جواہرات سمیت ایک کروڑ تیس لاکھ ڈالر میں خرید لیا۔ آج کل یہ ہیرا ریزرو بینک آف انڈیا، ممبئی میں موجود ہے۔

No comments:

Post a Comment